آٹھ اگست 2018ء کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پروآ میں تین گھرانوں کے لیے قیامت کا پیام ثابت ہوئی۔باقر حسین عربی مسجد کے قریب پہنچا جس کے ساتھ ہی پروآ تھانہ ہے تو موٹر سائیکل سوار دو مسلح افراد نے اس پہ گولیاں چلائیں۔گولیاں لگنے سے وہ زخمی ہوگیا مگر اس نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی۔

سڑک کے دونوں اطراف دکانیں کھلی ہوئی تھیں مگر کسی نے باقر حسین کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔فائرنگ کی آواز سن کر اہلکاروں نے تھانہ پروآ کا مرکزی گیٹ بند کردیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او جس کی بہادری کی مثالیں دے کر اس تھانے میں تعنیات کیا گیا تھا، وہ بھی تھانے میں موجود تھا۔

جان بچانے کی کوشش میں باقر حسین بھاگ کر چند قدم دور ہی گیا ہوگا کہ قاتلوں نے آلیا اور اس پہ ایک مرتبہ پھر گولیاں برسادیں اور نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے فرار ہوگئے۔

دوسرا واقعہ پروآ تحصیل کے علاقے فتح میں ہوا جہاں پہ ایک نوجوان حفاظت حسین کو موٹر سائیکل سوار دو قاتلوں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور موقعہ واردات سے فرار ہوگئے۔

تیسری واردات تحصیل پروا میں ہی ہوئی جب کالو ولد حیدر خان نامی شخص پہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور وہ موقعے پر دم توڑ گیا۔

مرنے والے باقر حسین اور حفاظت حسین کا تعلق شیعہ برادری سے تھا جبکہ کالو خان کا تعلق اہلسنت بریلوی برادری سے تھا۔کالو خان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اسے ایک ہفتے سے بھتہ پرچیاں موصول ہورہی تھیں اور اس نے اس بارے پولیس کو بتایا تھا لیکن کچھ نہ ہوا۔

اس واردات سے ایک ہفتہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہی دو پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناکر قتل کیا گیا۔یہ پولیس اہلکار بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں اس ہفتے میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی پانچ وارداتوں کو شیعہ اور پولیس کلنگ کی اس لہر سے جوڑا جا رہا ہے جو شدت کے ساتھ اس سال کے آغاز سے شروع ہوئی تھی۔گزشتہ سات ماہ اور اگست کے پہلے ہفتے میں اب تک 20 کے قریب ٹارگٹ کلنگز ایسی ہیں جن میں مارے جانے والوں کو ان کی شیعہ شناخت پہ نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ پانچ سال میں یہاں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں 800 سے زائد شیعہ مارے جاچکے ہیں جبکہ خود کش بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 400 کے قریب ہے۔اس طرح سے پانچ سال میں 1200 کے قریب شیعہ صرف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نشانہ بنے ہیں۔

ریجنل پولیس افسر داور علی خٹک کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں اب تک 172 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں جبکہ کے پی میں 1800 سے زائد پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈی آئی خان پولیس کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ مقامی پولیس کا مورال بہت گرا ہوا ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈیرہ پولیس میں ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی یونٹ بنایا گیا تھا۔حیرت انگیز طور پہ اس یونٹ میں کام کرنے والے بیشتر پولیس افسروں اور اہلکاروں کو گھات لگا کر قتل کیا جاچکا ہے۔ اس طرح یہ یونٹ عملاً غیر فعال ہوگیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس ڈیپارٹمنٹ بھی ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے لیے کوئی خاص سرگرم نظر نہیں آتا اور اس کی وجہ ’دباؤ‘ ہے۔انہوں نے اس دباؤ کی نوعیت ظاہر کرنے سے معذرت کرلی۔

ڈیرہ اسماعیل خان سرائیکی بولنے والے باشندوں کی اکثریت پہ مشتمل ڈویژن ہے۔یہاں کے سرائیکی دانشوروں اور ادیبوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اب تک جن شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے مارا گیا ہے ان میں 99 فیصدی سرائیکی بولنے والے تھے۔

ٹارگٹ کلنگ کی نہ ختم ہونے والی اس لہر نے سرائیکی شیعہ کمیونٹی پہ دباؤ میں سخت اضافہ کیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان شہر اور اس کے گرد و نواح سے بڑی تعداد میں شیعہ خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے اور وہ زیادہ بھکر، میاںوالی، ملتان، لیہ، مظفر گڑھ یا پھر اسلام آباد، راولپنڈی وغیرہ میں آباد ہوگئے ہیں۔

سرائیکی دانشور سعید اختر جو بنیکار بھی ہیں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈیموگرافی بدلنے کی غیر محسوس مہم جاری ہے اور ان کو یہ خطرہ لگ رہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں سرائیکی اقلیت میں ہو جائیں گے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے متصل ضلع ٹانک کی مثال اس حوالے سے سامنے ہے۔اس ضلع میں بہت کثیر تعداد میں ٹانک سے جنڈولہ تک جانے والی سڑک کے دونوں اطراف میں سرائیکی بلوچوں کی بستیاں تھیں جن کو گرہ بلوچ کہا جاتا تھا وہ آج موجود نہیں ہیں اور سڑک کے دونوں اطراف میں پشتون آبادیاں وجود میں آگئی ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق وزیرستان کے برکی، بٹنی، وزیر اور محسود قبائل سے ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان شہر اگرچہ اب تک سرائیکی اکثریت کی آبادی کا شہر ہے۔اس میں تقسیم کے بعد اگر بڑے پیمانے پہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں نے مقامی آبادی کے تناسب پہ کچھ فرق ڈالا تھا تو اب پشتو بولنے والی آبادی اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

گومل یونیورسٹی میں شماریات کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈیمو گرافک بدلاؤ کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک تو سرائیکی بولنے والی آبادی کا تناسب کم ہو رہا ہے تو دوسری طرف شیعہ اور صوفی سنّی مسلمانوں کی اکثریت جو اب بھی تعداد میں زیادہ ہے، تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

’پاکستان بننے سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی میں سرائیکی اور شیعہ و صوفی سنّی آبادی کا تناسب 99 فیصد تھا جو پاکستان بننے کے بعد بتدریج کم ہوکر 52 فیصدی تک آگیا ہے اور پاکستان بننے سے پہلے ایک فیصدی پشتون اور دیوبندی اب بڑھ کر 40 سے 48 فیصد پہ آگئے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خود سرائیکی بولنے والی صوفی سنّی آبادی کے اندر بدلاؤ دیکھنے میں ملا ہے اور اس کا بہت بڑا فیکٹر وہ 70ء کی دہائی سے مڈل ایسٹ مزدوری کے لیے جانے والی اس علاقے کی  لیبر پہ مڈل ایسٹ کے اندر غالب وہابی خیالات کے اثر کو بتاتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پشتون بولنے والی آبادی کی آمد کی بڑی لہر خیبرپختون خوا اور وزیرستان سمیت قبائلی ایجنسیوں میں شروع ہونے والے فوجی آپریشنوں کے دوران آئی۔جنوبی وزیرستان سے ہزاروں قبائلی پشتون ڈیرہ اسماعیل خان آکر آباد ہوگئے۔

لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان اور سابق جہادی و فرقہ پرست عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد داعش سے ملی تو اس علاقے میں داعش کے ہمدردوں کی بھی بڑی تعداد بھی پیدا ہوگئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں جہاں ٹی ٹی پی اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیمیں خود اینٹی شیعہ و صوفی سنّی کمپین کے تحت کاروائياں کرتی ہیں وہیں یہ تنظیمیں مقامی قبائل اور برادریوں کے درمیان پائی جانے والی ذاتی اور سیاسی دشمنیوں میں بھی کرائے پہ خدمات فراہم کرتی ہیں۔

پی ٹی آئی کے اسرار اللہ گنڈا پور اور ان کے بھائی اکرام اللہ گنڈا پور دو الگ الگ خودکش بم دھماکوں میں مارے گئے تھے۔ان پہ ہوئے حملوں کے بارے میں ان کے بھائی انعام اللہ گنڈا پور نے ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان پہ یہ خود کش حملے پی ٹی آئی کے موجودہ ایم این اے علی امین گنڈا پور (جنھوں نے مولانا فضل الرحمان کو شکست دی ہے) نے کرائے پہ طالبان کی خدمات حاصل کرکے کروائے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ اس بارے میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور پولیس کی رپورٹس میں بھی یہی ذکر کیا گیا تھا۔لیکن حیرت انگیز طور پہ اس حوالے سے نہ تو کے پی پولیس کا کوئی موقف سامنے آیا اور نہ ہی ایف سی، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے متعلقہ حکام نے کوئی رد عمل دیا۔

پاکستان میں شیعہ ہیومن رائٹس پہ کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ سرائیکی آہستہ رو نسل کشی کی منظم مہم  کا کیس 'شیعہ ہزارہ نسل' جیسا ہے۔اس کا مقصد ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے عمل کے زریعے شیعہ کمیونٹی کو مسلسل خوف کی حالت میں رکھنا، ان کی پروفیشنل پرتوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو ڈیرہ اسماعیل خان سے نقل مکانی پہ مجبور کرنا اور سب سے بڑا مقصد ان کو ان کی شناخت سے دست بردار کرانا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا منظم انداز میں آغاز 90ء کی دہائی میں ہوا تھا۔ اور یہ ٹارگٹ کلنگ مشرف کے دور میں خودکش بم دھماکوں تک پہنچ گئی تھی اور اس کا سلسلہ 2008ء سے 2013ء تک اے این پی، پی پی پی کی مشترکہ حکومت کے دور میں ہوتا رہا۔پھر 2013ء سے مئی 2018ء تک پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی جاری رہا اور یہ سلسلہ پی ٹی آئی کی دوسری حکومت میں بھی ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔

 پولیس کا مورال گرا ہوا ہے۔ سی ٹی ڈی بے بس نظر آرہی ہے اور فوج کا آپریشن رد الفساد کا فوکس بھی ڈیرہ اسماعیل خان کی ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ نظر نہیں آتا تو ایسے میں اگر ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈیموگرافی میں بدلاؤ عروج پہ نہ ہو تو کیا ہو؟

کیا اس کا یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں کو ڈی آئی خان میں شیعہ اور سرائیکیوں سے خالی ہوجانے کا خطرہ کسی بڑی پریشانی کا سبب نہیں ہے؟