پاکستان میں خواتین کے موٹرسائیکل پر سفر کے لیے سماجی طور پر قوانین متعین کر دیے گئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بائیک پر کیسے بیٹھ سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ قوانین غیرتحریری ہیں اور ان کا زبانی اظہار بھی نہیں ہوتا مگر ان کی خلاف ورزی ممکن نہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ لڑکیاں اور خواتین موٹرسائیکل چلا ہی نہیں سکتیں اور ان کے لیے دونوں ہاتھوں سے ہینڈل پکڑنا ممنوع ہے۔ دوسرا اصول یہ کہ اگرچہ وہ مرد ڈرائیور کے پیچھے بیٹھ سکتی ہیں مگر انہیں مرد کی طرح بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ اس کے بجائے خواتین کے لیے دونوں ٹانگیں ایک ہی جانب کر کے بیٹھنا لازم ہے۔ موٹرسائیکل کی دونوں جانب پاؤں رکھ کر بیٹھنے سے خواتین کی حیا اور شرافت متاثر ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں لاکھوں موٹرسائیکل ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں یہ خیال آتا ہے کہ عوامی سطح پر کہیں نہ کہیں یہ مسئلہ بھی زیربحث آتا ہو گا۔ مگر ایسی کوئی بات میرے علم میں نہیں آئی۔ یہ خاصی عجیب معاملہ ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی، بچوں سے زیادتی اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کو کم از کم کچھ توجہ تو مل ہی جاتی ہے مگر خواتین کے موٹرسائیکل چلانے کی بات کوئی کیوں نہیں کرتا؟

پاکستانی خواتین کے موٹرسائیکل چلانے پر غیراعلانیہ پابندی احساس شرمندگی سے جنم لینے والی سماجی ممانعت کی پیداوار ہے۔ سائیکل چلانا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اس ممانعت سے مراد اخلاقی نکتہ نظر یا مذہبی اعتقاد کی بنا پر کسی عمل کو روکنا ہے۔ ایسے کاموں سے بدحواسی جنم لیتی ہے چنانچہ ان معاملات کو زیربحث لانے کے بجائے چھپانا اور ان پر بات نہ کرنا ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے۔

اس مخصوص ممانعت یعنی خواتین کے موٹرسائیکل چلانے پر پابندی کی اچھی خاصی سماجی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ آج کل سڑکوں پر متوسط آمدنی والے لوگ عام دکھائی دیتے ہیں جو کار کی استطاعت نہ ہونے کے باعث موٹرسائیکل کے ذریعے سفر پر مجبور ہوتے ہیں۔

عموماً یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ موٹرسائیکل کی پچھلی نشست پر غیرمحفوظ انداز میں بیٹھی ماں نے ایک ہاتھ سے بچہ (یا دو بچے) تھام رکھے ہوتے ہیں اور خوفزدہ انداز میں دوسرا ہاتھ جہاں پڑے وہیں جمایا ہوتا ہے۔

شوہر نے دونوں ہاتھوں سے ہینڈل تھاما ہوتا ہے اور اسے گنجان ٹریفک میں جا بجا رفتار بڑھانا اور بریک لگانا پڑتی ہے۔ قانون کی رو سے مرد موٹرسائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ پہننا ضروری ہے مگر خواتین پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ چنانچہ کسی حادثے کی صورت میں اس بیچاری کو ہی زیادہ چوٹ لگتی ہے۔

خواتین کو مردوں کی طرح موٹرسائیکل پر بیٹھنے کی اجازت مل جائے تو زندگی میں ان کے لیے مواقع اور آزادی بھی بڑھ جائے گی جس سے پدرسری نظام پر زد پڑتی ہے

1970 کی دہائی اور اس سے پہلے یہ صورتحال نہیں تھی۔ اس دور میں ہم راولپنڈی کے متوسط علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتے تھے۔ جب میں بائیک چلاتا تو میری بیوی دونوں جانب پاؤں رکھ کر بیٹھتی جبکہ اس نے کمسن بیٹی کو بھی اٹھایا ہوتا تھا۔ ہمی پر موقوف نہیں بلکہ اشرافیہ کے شہر اسلام آباد میں نوجوان لڑکیاں بھی گاہے بگاہے بائیک چلاتی نظر آ جاتی تھیں۔ مگر اب ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

ایران اور ترکی میں شعبہ طبعیات سے وابستہ میرے دوست بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں بھی یہی صورتحال ہے اور موٹرسائیکل سوار خواتین کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ تاہم پاکستان کی طرح ایران اور ترکی میں بھی خواتین اب تک کار چلا رہی ہیں۔ البتہ سعودی عرب میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

خواتین کی نقل و حرکت پر ایسی پابندیوں اور اس صورت حال میں موجودہ تبدیلیوں کے پیچھے کون سی وجوہات کارفرما ہیں؟

اس کا ایک جواب 'تہذیبی مادہ پرستی' کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی تحقیق میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ ان سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ممنوعات سمیت معاشرے کی ہر چیز کے پیچھے معاشی و ماحولیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

'گائیں، سور، جنگیں اور چڑیلیں: تہذیبی معمے' نامی کتاب کے مصنف اور امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے محقق مارون ہیرس (2001-1927) کا شمار بھی انہی میں ہوتا ہے۔

ہیرس کے مطابق 'انتہائی عجیب و غریب دکھائی دینے والے اعتقادات اور رسومات بھی 'پیٹ، جنسی عمل، توانائی، ہوا، بارش اور حالات کی بنیاد پر عمومی مظاہر کے مجموعے سے ابھرنےوالی صورتحال کا نتیجہ ہوتے ہیں'

اپنی کتاب میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں بھوکے کسان سڑکوں گلیوں میں آزادانہ گھومتی 'مقدس' گایوں کو ذبح کرنے اور کھانے کی جرات نہیں کرتے۔ وہ اس کی معقول وجہ بتاتے ہیں کہ 'قدیم دور میں گایوں کو ہلاک کرنا معاشی اسقاط کے مترادف تھا جب پالتو جانور زراعت کے لیے اہم سمجھے جاتے تھے۔ یعنی اگر آپ مویشیوں کو بطور خوراک استعمال کریں گےتو ہل چلانے کے لیے ان کی مطلوبہ تعداد باقی نہیں رہے گی اور یوں فصلیں اگانا بھی ممکن نہیں ہو گا۔ یوں گائیں کھانا ممنوع قرار پایا۔

تاہم جب مشینی زراعت آئی تو گائے کے تقدس کی بابت حقیقی وجوہ قریباً ختم ہو گئیں۔ تاہم روایات بہت آہستگی سے جاتی ہیں اسی لیے بیشتر ہندو تاحال گائے کا گوشت کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب جدت کے تقاضے قدیم روایات کو ہمیشہ برقرار نہیں رہنے دیتے اور بھارت اب جدیدیت کی جانب گامزن ہے۔ میرے بہت سے ہندو دوست گائے کے گوشت اور اس سے بنے برگر شوق سے کھاتے ہیں۔

آئیے موٹرسائیکل کے قصے کی جانب واپس چلتے ہیں۔

اگر یہی سوال ہیرس سے پوچھا جاتا تو غالباً اس کا جواب یہ ہوتا کہ 'اگر خواتین کو مردوں کی طرح موٹرسائیکل پر بیٹھنے اور اسے چلانے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے ناصرف ان کی نقل وحرکت میں اضافہ ہو جائے گا بلکہ زندگی میں انہیں ملنے والے مواقع (نوکریاں، خریداری، دوست وغیرہ) بھی بڑھ جائیں گے۔ نتیجتاً انہیں پہلے سے کہیں زیادہ آزادی اور خودمختاری مل جائے گی جس سے لامحالہ پدرسری نظام پر زد پڑے گی۔

پدرسری نظام میں باپ اور دوسرے مرد خاندان کی خواتین پر حکمران ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ مردوں کی حیثیت افسروں اور خواتین کی ماتحت ملازمین جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا خواتین کی آزادی یا ان کی نقل وحرکت پر پابندی مرد کی اختراع تھی تاکہ اپنی طاقت اور اختیار کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

سوال یہ ہے کہ عرب سمیت بیشتر روایتی تہذیبوں میں پدرسری نظام کیوں مروج ہے؟ علوم انسانی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا ظہور ابتدائی انسانوں کی بقا کی ضرورت سے ہوا تھا۔ خواتین میدان جنگ کے لیے ناموزوں جبکہ بچوں کی پرورش کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھیں چنانچہ پدرسری نظام میں عورت مالی و جسمانی تحفظ کے بدلے ماتحت کا درجہ قبول کر لیتی تھی۔ بالاآخر مویشیوں کی طرح خواتین کی حیثیت بھی مال متاع جیسی ہو گئی جسے تحفظ کی ضرورت تھی۔

مگر جیسا کہ ٹریکٹر نے گائے کا تقدس ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اسی طرح جدید ٹیکنالوجی نے ان وجوہات کو بھی ختم کر دیا ہے جن کی بنا پر مرد کی بالادستی ناگزیر سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت دنیا میں بیشتر کام کمپیوٹر کے ذریعے ہو رہے ہیں اور مردوخواتین کمپیوٹر پر ایک جیسی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

صنعتی اور بعد از صنعتی دور کے معاشروں میں خواتین کی تنخواہیں تیزی سے مردوں کے برابر ہو رہی ہیں۔ اور تو اور اب جنگ بھی محض بٹن دبانے کا کھیل بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں طالبان اور خواتین مخالف تنظیموں کی جانب سے بلاشبہ عورتوں کو پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ مگر الہدیٰ اور پدرسری نظام کی حامی دوسری تنظیموں کی بھرپور کوششوں کے باوجود انسانی برابری ناگزیر ہے۔ ملالہ یوسفزئی کو گولی مارے جانے سے بلاشبہ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کو نقصان پہنچا مگر مستقبل میں وہاں تعلیمی رحجان کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کی ہی توقع ہے۔

دور جدید میں بقا کی ضرورت نے خواتین کے موٹرسائیکل چلانے پر پابندی کو ناممکن بنا دیا ہے خواہ یہ کس قدر ہی خطرناک اور غیرفطری انداز میں ہی کیوں نہ ہو۔

کچھ عرصے (شاید کئی دہائیاں) کے بعد پاکستانی خواتین یقیناً مردوں کی طرح بائیک پر بیٹھ کر ہینڈل، کلچ، ایکسیلیریٹر اور بریک کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام سکیں گی۔